یہ طرم خان کون تھا؟ ۔ طرہ باز خان اتمان خیل

طرم خان کون تھا؟ کوٹھی حیدر آباد دکن میں طرم خان (طرہ باز خان) اتمان خیل شہید کی یادگار ۔ جنگ آزادی 1857 کا گمنام ہیرو ۔ آپ نے اکثر سنا ہوگا: ’فلاں بڑا طرم خان بنا پھرتا ہے،‘ لیکن کیا کبھی سوچا کہ یہ طرم خان کون تھا اور اس کی وجۂ شہرت کیا ہے؟اصلی نام طور باز خان تھا پختونوں کے۔ایک جنگجو قبیلے۔اتمان خیل۔سے تعلق رکھتے تھے طور باز خان کے والد کا نام۔رستم۔خان اتمان خیل تھا اور پاکستان کے صوبے موجودہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے حیدر آباد دکن ہندوستان گئے تھے۔ ایک محاورہ زبان زد عام ہے کہ ’بڑے طرم خان بنے پھرتے ہو یا پھر تم کون سے طرم خان ہو۔ ہم میں سے اکثر نے اردو کا یہ مشہور محاورہ سن رکھا ہے مگر شاید ہم یہ نہیں جانتے کہ طرم خان تھے کون اور ان کا کردار آخرکیسے لازوال ہو کر محاورے میں ڈھل گیا۔ اس محاورے کی کھوج ہمیں 1857 کی جنگ آزادی تک لے جاتی ہے جہاں ریاستِ حیدرآباد دکن کا نواب، جو ’نظام دکن‘ کہلاتا ہے، برطانیہ کا اتحادی ہے اور ان کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن جب انگریز کے […]

Read more

اتمان خيل قبيله کے تاريخی شخصیت شیخ عطا اللہ بابا کا مزار

کسی بھی قوم کی عروج و زوال کا داستان ان کے اپنے اسلاف کے نقش و قدم پر چلنے اور انہیں یاد رکھنے سے جُڑے ہوئے ہیں، جس قوم نے اپنے ابا و اجدا اور اسلاف کے نام، کام اور کارناموں سمیت ان کی نقش و قدم پر چلنے کو قائم و دائم رکھا، وہی قومیں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیگی اور جن اقوام نے اپنے اسلاف کو بلا دیا، تاریخ میں ان کا ذکر تک باقی نہیں رہتا، پختون قوم اس حوالے سے انتہائی بدقسمتی کا شکار رہا ہے، کہ وہ اپنے ابا و اجدا اور اسلاف کے کارناموں کو قلبی سطح پر تو قائم و دائم رہ سکنے میں کوئی کسر نہ چھوڑ سکیں، مگر انہیں تحریر میں لانے کے لئے کوئی موقع نہیں ملا، اور انہیں ہمیشہ کبھی اپنے بھائیوں کے ساتھ او رکبھی دوسرے اقوام کے ساتھ جنگ و جدل میں مصروف رکھ کر تعلیم و تعلم کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ سے کہ اج بھی پختون قوم کے محقیقین و مؤرخین پختون کے اصل نسل کے بارے میں پریشاں و سرگرداں ہیں، کوئی انہیں بنی اسرائیل گرادنتے ہیں تو کوئی انہیں سامع النسل قرار دیتے ہیں، بعض انہیں اریائی اور بعض انہیں […]

Read more

ضلع مہمند

ضلع مہمند ضلع مہمند صوبہ خیبرپختونخواہ پاکستان کا ایک ضلع ہے ۔ یہ 2018 تک مہمند ایجنسی تھا ۔ جبکہ 2018 ء میں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا ۔ 1951 ء میں ضلع مہمند کو ایجنسی کے طور پر بنایا گیا تھا ۔ ضلع مہنمد کی سرحدی ضلع باجوڑ ، ضلع خیبر ، ضلع مالاکنڈ ، ضلع چارسدہ اور ضلع پشاور سے ملتی ہیں ۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 474,345 افراد پر مشتمل ہے ۔ یہاں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ اس ضلع میں خواندگی کی شرح 31 فیصد ہیں ۔ مردوں میں خواندگی کی شرح 48 فی صد ہے ۔ جبکہ خواتین میں خواندگی کی شرح 13 فی صد ہے ۔ اس علاقے میں صرف 381 افراد کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے ۔ جن میں زیادہ تر عیسائیت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہاں کی 99 فیصد آبادی پشتو زبان بولتی ہے ۔ یہاں کے لوگ بہت محنتی جفاکش اور محب وطن ہیں ۔ زیادہ تر آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے ۔ یہ علاقہ ایک عرصہ تک دہشت گردی کے خلاف میدان جنگ رہا ہے ۔ اور بالآخر اب اس ضلع میں پاک فوج […]

Read more

پـه فکـر اتمان خــــــیل ۔ غني خان بابا

اتمان خیل یــم پیدا د اشنغره خـوپـه فکـر اتمان خــــــیلیوه کږه ورانه ویــجاړهغوندي زاڼه د دے سیل زه بچے د طره باز یـــمد اتمان شمریـز اواز یمشوخ و شنګ یــــــــــمسوز و ســـاز یــــــــــمد بل چا به څه نظر ويد غــــــني بابا نظر دے یــم پیدا د اشنغره خـوپـه فکـر اتمان خــــــیلیوه کږه ورانه ویــجاړهغوندي زاڼه د دے سیل غني خان بابااووه ګلونهلټون

Read more

اتمان خیل قوم کا تعارف

اتمان خیل قوم کا تعارف قرآن کی آیت۔۔۔۔۔ وَ جَعَلنَا شَعُوباً قَبَائِلَ لِتَعَارَفُ ۃترجمہ:اور ھم نے تمھاری ذاتیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کى پہچان کرسکو۔ اُتمان خیل قوم دوسری اقوام کیطرح کئی قبیلوں ، شاخوں اورذیلی شاخوں میں تقسیم ہے۔ جن میں چند مشہور اور بنیادی شاحیں اور قبیلے مندرجہ ذیل ہے۔ا) :ماندل (ب) آصیل (ت) علی زئی(ث) شموزئی (ج) بُٹ (خ) ستانہ دار، اوراس کے علاوہ سینکڑوں ذیلی شاخیں ہیں۔ اتمان خیل قوم کی تاریخ دوست محمد خان کامل “مرحوم”ْ اپنی کتاب ( خوشخال خان خٹک) جو کہ اُردو زبان میں لکھی گئی ہے، کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ 500 ق م میں ایک یونانی مو‌‌رْخ ہیروڈاٹس پشتونوں کی اس سرزمین سے گذرااور یہاں پکتولیس نامی ایک قوم کا ذکر کرتے ہیں جو غالباً اُس نے اسکو اپنے لہجہ میں ڈھالا ہے اور دراصل یہ پکتہا ، پکتون پختون یا پشتون کی نشان دہی کرتا ہے ۔ آگے چل کر ہیر وڈاٹس دریائے سندھ کے کنارے آباد چار اقوام کا ذکر کرتے ہیں جن میں ایپریٹائے، سیٹگیڑلے، اوراُٹومان کا ذکر کرتے ہیں ۔یہ بھی ہیروڈائس کے لہجے کی تبدیلی ہے۔ اور غالباً گمان کیا جاتاہے، کہ ایپریٹائے افریدی قوم،سیٹگیڈلے،خٹک اور اُٹومان اتمانخیل قوم کی نشاندہی کرتا […]

Read more