رحمت شاہ سائل

رحمت شاہ سائل ۔ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی

رحمت شاہ سائل سائل پشتو کے شاعر ہیں۔ وہ 1943ء میں مالاکنڈ ایجنسی میں درگئی کے مقام پر پیدا ہوئے۔ پشتو شاعری پر مشتمل کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 14 اگست 1995ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

رحمت شاہ سائل، پختونوں کا شیخ ایاز

گرفتار کئے گئے تمام افراد کا تعلق بائیں بازو کی نظریات رکھنے والوں سے تھا اور ان کو مارشل لا حکومت کی قائم کردہ فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو فوجی عدالت کے سربراہ، جو ایک کرنل تھے، کی نگاہ سب سے آخر میں کھڑے چھوٹے سے قد کے خوش شکل اور خاموش کھڑے نوجوان پر پڑی، پتہ نہیں اردو بولنے والے کرنل کے دل میں کیا آیا کہ اس پختون نوجوان کو آگے آنے کا اشارہ کیا اور مہذب اور میٹھے لہجے میں پوچھا کہ کیا کام کرتے ہو؟ نوجوان نے جواب دیا کہ سیاست، شاعری اور مزدوری۔ فوجی عدالت کے سربراہ کے چہرے پر ایک مہربان شفقت بھری مسکراہٹ پھیل گئی اور قدرے احترام کے ساتھ پوچھا کہ یہ کام کس لئے کرتے ہو؟ نوجوان نے اسی روانی سے جواب دیا کہ اس لئے کرتا ہوں کہ سیاست میرا آئینی، جمہوری اور بنیادی حق ہے، شاعری اس لئے کرتا ہوں کہ یہ قدرت کی طرف سے ایک نعمت کے طور پر مجھے دی گئی ہے اور اس کے ذریعے انسانوں کے دکھ اور مسائل اجاگر کرنا مجھ پر فرض ہے جبکہ مزدوری اس لئے کرتا ہوں کہ اپنے خاندان اور خود کو بھوک سے بچا سکوں۔ کچھ عرصہ بعد اس مشہور مقدمے، جسے ملاکنڈ سازش کیس کا نام دیا گیا تھا، کا فیصلہ آیا تو خلاف توقع تمام ملزمان بری کر دیئے گئے۔ وہ نوجوان شاعر اب بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا ہے لیکن اب بھی اس محسن منصف کو یاد کرتا ہے جس نے انصاف کی خاطر فکری مخالفت کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ وہ شاعر بعد میں پختون تاریخ کے چند انتہائی مقبول شاعروں میں سے ایک بنا اور دنیا نے اسے رحمت شاہ سائل کے نام سے جانا۔ احمد فراز کی مانند نوجوان نسل پر اس کی دلآویز شاعری کے اثرات اور مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اپنے عہد کے سب سے بڑے لکھاری اور دانشور قلندر مومند مرحوم نے ایک بار مجھے کہا تھا کہ رحمت شاہ سائل وہ واحد شاعر ہے جسے باقاعدہ ایک سٹریٹ پاور میسر ہے (نوجوان طبقے میں اس کی مقبولیت کی طرف اشارہ تھا) لیکن اس مقبولیت کے باوجود بھی اس نے حیرت انگیز طور پر اپنی شاعری کا معیار کہیں بھی گرنے نہیں دیا بلکہ اسے مسلسل ارتقائی عمل ہی سے گزارتے رہے۔

راشہ ٹیکسلا تہ د کنڈرو ژبہ زدہ کہ
سوات او چین بہ ٹول لکہ بامیان درتہ خکارہ شی
ترجمہ: ”کبھی ٹیکسلا کے کھنڈرات کی زبان تو سیکھ لے، سوات اور چین بھی بامیان کے مانند دکھائی دیں گے۔“

یہی وہ گہرا مشاہدہ اور وسیع مطالعہ ہے جس نے رسمی تعلیم سے محروم رحمت شاہ سائل کو شاعروں کی اس صف میں کھڑا کیا ہے جہاں اردو نے فیض اور سندھی زبان نے شیخ آیاز کا انتخاب کیا لیکن یہاں رحمت شاہ سائل کو ایک فطری برتری اس لئے حاصل ہے کہ مذکورہ دونوں شاعر اپنی آسودہ پس منظر کی بدولت اعلی تعلیمی اداروں سے عہدوں اور منصبوں تک رسائی رکھتے رہے جبکہ رحمت شاہ سائل ایک غریب بیوہ کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ ساری عمر ایک دیہاتی علاقے کی چھوٹی سی ٹیلرنگ شاپ میں سارا سارا دن ایک سلائی مشین پر جھکے اس سے اپنے بچوں کا رزق نکالتا رہا لیکن کمال یہ ہے کہ ان حالات میں وہ شاعری بھی کر گیا اور شاعری بھی کس غضب کی۔

زہ خو بہ دے سترگو تہ ہم زدہ کڑمہ پختو ژبہ
تہ بہ پرے وڑومبے ٹکے ثہ وائے ما تہ او وایہ
ترجمہ: ”چلو میں تو تمھاری آنکھوں کو پشتو سکھا دوں گا لیکن یہ تو بتانا کہ تم اس زبان سے پہلا لفظ کیا بولو گے۔

رحمت شاہ سائل کی شاعری رومان اور انقلاب کے دو پاٹوں کے درمیان ہمیشہ بہتی رہی اور اس دریا کا منبع وہ گلیشئیر تھے جو عوامی جذبوں اور احساسات کے ساتھ ساتھ مسائل اور ضرورتوں سے پھوٹتے رہے۔ ان حالات سے جن جذبات اور احساسات نے جنم لیا وہ سائل کو و ہاں لے کر گیا جہاں سے غم جاناں سے غم دوراں کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔

د خوبولو سترگو غیگے دے منم خو اشنا
چالہ بہ ورشی پہ شڑنگا د زنزیرونو کے خوب
ترجمہ: تمھاری خوابناک آنکھوں سے انکار کس کو ہے لیکن زنجیروں کی اس جھنکار میں نیند کس کو آئے گی۔

جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ رحمت شاہ سائل کا ذاتی تعلق محروم اور پسے ہوئے طبقے سے ہے اور یہی وجہ تھی کہ اس کا شعور اسے وہاں لے کر گیا جہاں سے ان طبقات کیلئے عقیدت بھرا بائیں بازو کا سرچشمہ پھوٹتا رہا۔ لیکن انقلاب کے ساتھ ساتھ اس کی شاعری ایک گہری رومانویت اور تہذیبی رچاؤ کی حامل بھی ہے جو روایت اور جدت کا ایک حسین امتزاج لئے ہوئے ہے۔ سالہا سال پر محیط ذاتی تعلق نے مجھے رحمت شاہ سائل کی شخصیت کو بھی سمجھنے میں بہت مدد دی اور میری یہ رائے بنتی گئی کہ باوجود ایک انتہائی مقبول شاعر کے وہ اپنی شاعری کو کیش کرانے میں حد رجہ ناکام رہے کیونکہ وہ ایک شاعر ہے اور شاعر ہی رہے دکاندار نہ بن سکے حالانکہ تیسرے درجے کی شاعری کرنے والے بھی ”مارکیٹنگ“ میں کمال رکھنے کے سبب کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ اگر اعلی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ساتھ رحمت شاہ سائل یہ ”کمال“ بھی حاصل کر لیتا تو کم از کم مالی حوالے سے تو ان کے دن پھر جاتے۔ کچھ دن پہلے میں نے نئی تخلیقات کے حوالے سے پوچھا تو بتایا کہ تین کتابوں کے مسودے پڑے ہیں لیکن پرانی کتابیں بک جائیں اور کچھ پیسے ہاتھ آئیں تو اشاعت کے لئے نئے مسودے دے دوں گا۔

عظیم فلسفی شاعر اور مصور غنی خان نے اپنی انگریزی کتاب دی پٹھان میں لکھا ہے کہ پختون موسیقی سے پیار کرتے ہیں لیکن موسیقی بجانے والے (موسیقار) سے نفرت کرتے ہیں۔ پتہ نہیں غنی خان نے اپنی رائے صرف موسیقی اور موسیقار تک ہی کیوں محدود رکھی ورنہ اس سے زیادہ انتہا پسند رویہ تو ہمارا ہر فن خصوصاً شاعری اور شاعر کے حوالے سے ہی ہے۔ ورنہ فیض اور شیخ ایاز کے مقابلے کا یہ بے بدل ترقی پسند پشتو شاعر ایسی زندگی گزارتا جو وہ گزار رہا ہے؟ لیکن ہم نے خوشحال خان خٹک کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا تھا جو رحمت شاہ سائل کے ساتھ کر لیتے۔ پتہ نہیں ہمارے جینز میں کیا خرابی ہے کہ ہمیشہ ہمارے ہیروز بڑے فنکار اور آزادی کے جنگجو نہیں ہوتے بلکہ قاتل اور ڈاکو ہی ہوتے ہیں۔ کسی کو شک ہے تو ہماری کہانیوں، ڈراموں اور فلموں کا ریکارڈ ہی چیک کر لیں۔ وہاں خوشحال خان خٹک سے رحمت شاہ سائل تک اور پیر روخان سے باچا خان تک ایک بھی دکھائی نہیں دے گا لیکن اپنے اپنے وقت کا ہر ڈاکو لٹیرا اور مسخرا چھایا ہوا ہے۔ لیکن اس احمقانہ سوال سے ہم پھر بھی باز نہیں آتے کہ آخر ہماری تباہی کے اسباب ہیں کیا؟